January 09, 2024
عمران خان کا سانحہ 9 مئی کے 12کیسز میں 2 دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا گیا تمام تھانوں کی تفتیشی ٹیمیں ایک ساتھ اڈیالہ جیل میں ہی تفتیش کر...
تمام تھانوں کی تفتیشی ٹیمیں ایک ساتھ اڈیالہ جیل میں ہی تفتیش کرسکیں گی، انسداد دہشتگردی عدالت راولپنڈی کے جج ملک اعجاز آصف نے جسمانی ریمانڈ کا فیصلہ سنایا

اولپنڈی ( اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 09 جنوری 2024ء) بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا سانحہ 9 مئی کے 12 کیسز میں 2 دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا گیا۔ میڈیا کے مطابق انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت راولپنڈی کے جج ملک اعجاز آصف نے فیصلہ سنا دیا ہے، عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے سانحہ 9 مئی کے 12کیسز میں 2 دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا ہے ، پولیس نے 30 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی، وکلاء صفائی کی جانب سے بانی چیئرمین پی ٹی آئی کے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کی گئی تھی۔بانی چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف 9 مئی واقعات کے 12 مقدمات درج ہیں۔ جن کی تفتیش کیلئے عدالت نے جسمانی ریمانڈ منظور کیا ہے، تمام تھانوں کی تفتیشی ٹیمیں ایک ساتھ اڈیالہ جیل میں ہی تفتیش کرسکیں گی۔بانی پی ٹی آئی کو جیل سے باہر نہیں لے جایا جاسکے گا۔ انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت راولپنڈی نے 11جنوری کو مکمل تفتیشی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
مقدمے کی مزید سماعت 11جنوری کو صبح 10 بجے دوبارہ اڈیالہ جیل میں ہوگی۔ واضح رہے اڈیالہ جیل میں آج بانی پی ٹی آئی کی توشہ خانہ اور 190ملین پاؤنڈ ریفرنسز میں ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی، احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے محفوظ فیصلہ سنا دیا ہے۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے توشہ خانہ اور 190ملین پاؤنڈ ریفرنسز میں ضما نت کی درخواستیں مسترد کردی ہیں۔توشہ خانہ ریفرنس میں سماعت 11 جنوری تک ملتوی کردی گئی، نیب آئندہ سماعت پر توشہ خانہ ریفرنس میں 12 گواہان پیش کرے گا۔ اسی طرح 190ملین پاؤنڈ میں فرد جرم کیلئے 17جنوری کی تاریخ مقرر کردی گئی ہے۔ مزید برآں بانی چیئرمین تحریک انصاف کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس میں نیب گواہان کی فہرست بھی سامنے آگئی ہے۔ فہرست کے تحت نیب توشہ خانہ ریفرنس میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے خلاف عدالت میں 20 گواہان پیش کرے گا۔نیب نے بانی پی ٹی آئی اور سابق وزیراعظم کے ملٹری سیکرٹری اور ڈپٹی ملٹری سیکرٹری بھی گواہان میں شامل کرلیا ہے، ڈپٹی قونصلیٹ جنرل دبئی رحیم اللہ، توشہ خانہ کے سیکشن افسران اورپی ایم آفس کے اسسٹنٹ سیکرٹری پروٹوکول زاہد سرفراز بھی گواہان میں شامل ہیں۔ فہرست میں ایک وعدہ معاف گواہ بھی شامل کیا گیا ہے۔ توشہ خانہ تحفے کا پرائیویٹ تخمینہ لگانے والے صہیب عباسی بطور وعدہ معاف گواہ پیش ہوں گے۔دوسری جانب یاد رہے کہ احتساب عدالت نے توشہ خانہ کیس میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی پر فرد جرم عائد کردی ہے۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی نے صحت جرم سے انکار کردیا۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ کیس کی سماعت کی۔عدالت نے ملزمان کو کمرہ عدالت میں چارج شیٹ پڑھ کر سنائی ۔ چارج شیٹ سننے کے بعد ملزمان نے صحت جرم سے انکارکردیا، فرد جرم کے وقت بانی چئیرمین پی ٹی آئی اور اہلیہ بشری بی بی وکلاء کے ہمراہ کمرہ عدالت میں موجود تھے ۔ عمران خان توشہ خانہ کیس میں ٹرائل کورٹ کے فیصلے کی معطلی کیلئے پھر سپریم کورٹ سے رجوع کرچکے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کے وکلاء نے سپریم کورٹ رجسٹرار آفس کے اعتراضات ختم کرکے دوبارہ اپیل دائر کردی ہے۔بانی پی ٹی آئی نے اپیل میں استدعا کی کہ توشہ خانہ کیس میں ٹرائل کا فیصلہ معطل کیا جائے۔ ٹرائل کورٹ کے جج ہمایوں دلاور نے توشہ خانہ کیس میں بانی پی ٹی آئی کو تین سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی تھی۔اپنے فیصلے میں جج نے کہا تھا کہ توشہ خانہ کیس میں بانی پی ٹی آئی پر الزامات ثابت ہوتے ہیں، ان پر جھوٹے اثاثے ظاہر کرنے کا الزام ثابت ہوا۔انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو 3سال کی سزا سنائی جاتی ہے، ان کے گرفتاری کے وارنٹ نکالے جاتے ہیں اور ان پر ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔
December 03, 2023
اسد قیصر کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد عدالت نے پی ٹی آئی رہنماء کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا As im ی استدعا مسترد کرت...
اسد قیصر کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد
عدالت نے پی ٹی آئی رہنماء کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا
Asim
ی استدعا مسترد کرتے ہوئے عدالت نے 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ تفصیلات کے مطابق عدالت نے 9 مئی کے توڑ پھوڑ کیس میں سابق سپیکر اور تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر کا مردان پولیس کو جسمانی ریمانڈ دینے سے انکار کرتے ہوئے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پرجیل بھیج دیا۔بتایا گیا ہے کہ مردان پولیس نے گزشتہ روز ضمانت ہونے پر ایک اورکیس میں سابق سپیکر اسد قیصر کو گرفتار کیا تھا اور آج جوڈیشل مجسٹریٹ عطا الرحمان کی عدالت میں پیش کیاگیا جہاں پولیس کاکہنا تھا کہ 9مئی کے توڑ پھوڑ کے واقعات میں اسد قیصرکیخلاف مقدمہ درج ہے، جس کی تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔خیال رہے کہ سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو عدالت سے ضمانت منظور ہونے کے باوجود دوبارہ گرفتار کیا گیا ہے، اسد قیصر کو ڈسٹرکٹ جیل سے رہائی کے بعد فوری دوبارہ گرفتار کر لیا گیا، پولیس نے اسد قیصر کو ڈسٹرکٹ جیل مردان کے احاطے سے گرفتار کیا، جس کے بعد پولیس اسد قیصر کو تھانہ سٹی لے گئی۔
قبل ازیں مردان کی عدالت نے پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کی درخواستِ ضمانت منظورکرکے رہائی کا حکم جاری کیا تھا، سیشن جج مردان محمد زیب نے اسد قیصر کی نو مئی کے مقدمے میں ضمانت منظور کی، عدالت نے حکم دیا تھا کہ اگر اسد قیصر کسی اور مقدمہ میں ملوث نہیں تو انہیں ضمانت پر رہا کر دیا جائے۔ مزید برآں پشاورہائیکورٹ نے سابق سپیکر اسد قیصر کی باربار گرفتاری پر حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ یہ کیا مذاق ہے، ضمانت ملنے کے بعد دوسرے مقدمے میں گرفتار کرتے ہیں، قانون اس پر کیا کہتا ہے یہ دیکھیں گے
Asimپشاور ہائی کورٹ میں جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس صاحبزادہ اسد ال نے پی ٹی آئی رہنماء و سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصرکیخلاف موجودہ مقدمات میں گرفتار نہ کرنے کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار اسد قیصر کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ’ضمانت ملتے ہی دوسرے مقدمے میں گرفتارکر لیا جاتا ہے، پہلے سے درج مقدمات میں گرفتار نہ کیا جائے‘، جس پر سرکاری وکیل نے موقف اپنایا کہ ’اسد قیصر مقدمات میں نامزد ہیں اس لئے گرفتار ہوتے ہیں‘۔
December 03, 2023
ہمیں بکریوں کی طرح بند کر دیا گیا، نواز شریف کو لندن سے یہاں لے آئے، عمران خان سائفر کیس کی بطور وزیر اعظم انکوائری کا آرڈر کیا، اس کیس می...
ہمیں بکریوں کی طرح بند کر دیا گیا، نواز شریف کو لندن سے یہاں لے آئے، عمران خان
سائفر کیس کی بطور وزیر اعظم انکوائری کا آرڈر کیا، اس کیس میں جو لوگ ملوث ہیں وہ طاقتور ہیں انہیں بچانے کی کوشش کی جارہی ہے، سابق چیئرمین پی ٹی آئی
atOptions = {
'key' : '275d2f2652727f48c141dacd52291d84',
'format' : 'iframe',
'height' : 60,
'width' : 468,
'params' : {}
};
document.write('');
>Asim
سماعت کے دوران شاہ محمود قریشی نے عدالت کو کہا کہ ہمیں بتایا جائے ان کا ٹرائل آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 یا 2023 کے قانون کے تحت کیا جارہا ہے؟ ہمارے پروڈکشن آرڈر پر جیل انتظامیہ نے حکم عدولی کی ہے، ہماری ضمانت پر انتظامیہ نے عدالت میں ریکارڈ پیش نہیں کیا، ہمیں اس کیس میں ٹرائل کرنے کوشش جاری ہے جس کا نہ سر ہے نہ پیر۔ شاہ محمود قریشی نے عدالت کو کہاکہ صدر مملکت عارف علوی کو عدالت طلب کیا جائے، وہ عدالت میں حلف دے کر بتائیں انہوں نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا ترمیمی قانون منظور کیا ہے۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ میرے پاس جہانگیر ترین جیسے لوگ نہیں کہ بڑے وکیل کی خدمات حاصل کرسکوں، عمران خان مشہور شخصیت ہیں نامور وکلا ان کے کیس کی پیروی کررہے ہیں۔ عدالت نے شاہ محمود قریشی سے کہاکہ آپ یہ بات سن لیں آپ کا اعتراض ختم ہوچکا ہے، آج میڈیا اور پبلک عدالت میں موجود ہے، آپ کو سکیورٹی خدشات کے باعث عدالت میں پیش نہیں کیا گیا، آپ کا اور عمران خان کا ٹرائل الگ نہیں کیا جاسکتا یہ کیس انٹر لنک ہے۔ جج کا کہنا تھاکہ صدر مملکت نے جو قانون منظور کیا ہے اس کی کوئی شک آپ کے کیس میں لاگو نہیں ہورہی، آپ کا ٹرائل آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی شق پانچ اور شق 9 کے تحت ہوگا، عدالت میرٹ پر اپنی کارروائی کررہی ہے
Asim